ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مسلمانوں کو اپنی حب الوطنی کا ثبوت بی جے پی کودینے کی ضرورت نہیں: بنگلور کے کونسل رکن رضوان ارشد کا بیان

مسلمانوں کو اپنی حب الوطنی کا ثبوت بی جے پی کودینے کی ضرورت نہیں: بنگلور کے کونسل رکن رضوان ارشد کا بیان

Mon, 14 Aug 2017 22:24:24    S.O. News Service

بنگلورو۔14؍ اگست(ایس او  نیوز) ان ریاستوں میں جہاں بی جے پی برسر اقتدار ہے، دینی مدارس کو یہ سرکیولر جاری کرنا تشویشناک ہے کہ یوم آزادی کی تقریبات کے موقع پر ان مدارس میں ترنگا لہرائے جانے کی ویڈیو ریکارڈنگ کرکے اسے حکومتوں کو پیش کیا جائے ۔ ملک کے مسلمانوں کو اپنی حب الوطنی کا ثبوت کسی کو پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ خاص طور پر ان لوگوں کو جو جہد آزادی میں انگریزوں کے مخبر اور غلام تھے۔ یہ بات آج رکن کونسل رضوان ارشد نے کہی۔

یوپی اور مدھیہ پردیش کی حکومتوں کی طرف سے اس سلسلے میں جاری سرکیولر کو زیادتی قرار دیتے ہوئے کہاکہ ملک کی بدقسمتی یہ ہے کہ آج اقتدار پر ان لوگوں کا قبضہ ہوچکا ہے جو 70 سال پہلے انگریز حکمرانوں کے تلوے چاٹ رہے تھے۔ آج کے حکمرانوں کی سرپرستی کرنے والوں نے ملک میں جہد آزادی کی کھل کر مخالفت کی تھی۔وہ ملک میں انصاف کے تقاضوں پر مبنی آئینی اور جمہوری نظام کے مخالف شروع سے رہے ہیں۔آج جب اقتدار ان کے ہاتھوں لگا ہے تو وہ ایسا ہی نظام ملک میں رائج کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس کے خلاف جہاں سیاسی پارٹیاں اور مختلف ادارے اور انجمنیں تحریک چلائیں گی وہیں مسلمانوں کوچاہئے کہ اپنی بیداری کا ثبوت دیتے ہوئے آپسی اتحاد کو پروان چڑھائیں۔ ملک کا مسلمان اگر بکھرا نہ ہوتا تو آج فرقہ پرستوں کی اتنی جرأت نہ ہوتی کہ آنکھ سے آنکھ ملاسکے۔ نوجوانوں میں جوش کی بجائے ہوش کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے رضوان ارشد نے آواز دی کہ ملک کا دانشور طبقہ ملک کی حقیقی تاریخ سے نئی نسل کو آگاہ کرانے کی جدوجہد کرے۔ اقتدار ملتے ہی آر ایس ایس ملک کی تاریخ کو مسخ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ آج ملک کی بعض ریاستوں میں جوفرقہ پرستانہ نصاب ترتیب دیاجارہاہے اس میں ملک کی تاریخ سے مغلوں کا نام ونشان مٹایا جارہا ہے ۔ آر ایس ایس کا نظریہ صرف یہی ہے کہ ملک کو ہندو راشٹر بنایا جائے۔ ملک کے سیکولر عوام جو یہاں امن وامان چاہتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ملک عالمی سطح پر ترقی کرتے ہوئے آگے بڑھے وہ کبھی اس خواب کو پورا نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے تمام مدارس اور خانقاہوں میں حب الوطنی کا جشن شروع سے ہی مناتے رہے ہیں، اب اچانک اس طرح کا سرکیولر جاری کرکے بی جے پی اور اس کی ہمنوا تنظیمیں اس بات پر اصر ار کررہی ہیں کہ تقریبات کا اہتمام کیاجائے اور اس کی ویڈیو ریکارڈنگ حکومتوں کو پیش کی جائے۔دراصل یہ ملک کے مسلمانوں پر ایک نفسیاتی وار ہے۔اگر بارہا حب الوطنی ثابت کرنے کیلئے ان طریقوں سے زور دیاگیا تو طیش میں آکر مسلمان ان تقریبات کا اہتمام کرنا چھوڑ دیں گے، تب ان طاقتوں کا منصوبہ ہے کہ مسلمانوں پر ملک دشمنی کا الزام لگایا جائے، لیکن ان کا یہ منصوبہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔ ملک کے مدارس کی بدولت ہی ملک کو آزادی ملی ہے، مدارس کے فارغ ہی ملک کو قربانی دینے کیلئے آگے آئے اور انہی مدارس کے فارغوں کی لاشیں ہی دہلی سے لاہور تک کی گرانڈ ٹرنک سڑک کے ہر پیڑ پر لٹکتی رہیں۔ آج حب الوطنی کا پیمانہ طے کرنے والے لوگوں کو یہ بتا نا پڑے گا کہ ان کے وہ کونسے مجاہد ہیں جنہوں نے جہد آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔

بی جے پی کے قومی صدر امیت شا کے دورۂ بنگلور کے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ امیت شا بنگلورکا دورہ کیوں کرتے ہیں ، یہاں مقیم ہوجائیں تب بھی وہ ریاست میں بی جے پی کو اقتدار پر نہیں لاسکتے۔ انہوں نے کہاکہ اترپردیش میں امیت شا ایک چیز میں ضرور کامیاب ہوئے، وہاں انہوں نے آپسی نفرت کو بڑھاوا دیا اور ہندو مسلم بھائی چارگی کو ختم کیا۔ لیکن کرناٹک میں ان کے حربے نہیں چلیں گے۔ آنے والے دنوں میں گنیش تہوار اور بقر عید کے اہتمام کے مرحلے میں بی جے پی کی طرف سے حالات کو مکدر کرنے کی سازشوں سے نوجوانوں کو باخبر کرتے ہوئے انہوں نے گذارش کی کہ کسی بھی حال میں وہ جذباتی نہ ہوں اور حالات بگاڑ نے کی کسی بھی کوشش سے حکام کو آگاہ کرائیں اور سب سے پہلے پولیس کو اعتماد میں لینے کی کوشش کریں۔ اس کے بعد بی جے پی کے سارے منصوبوں پر خود بخود پانی پھر جائے گا۔ 


Share: